مقصدِ تحاریر

مسلمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ اللہ کی کائنات میں اللہ کی وحدانیت اور عظمت کی نشانیاں ہیں، انھیں تلاش کیا جائے، تحقیق کی جائےاور اس تحقیق کے نتیجے میں حاصل کردہ علم کو دوسروں تک پہنچایا جائے۔ ایک سوال پوری دنیا میں گونجتا ہے۔ اسلام کے عطا کردہ اصولوں کے مطابق حکومت کی تشکیل کا طریقہ کارکیا ہوگا؟۔۔۔ اس کتاب کو تحریر کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہے۔ لیکن اس مقصد تک پہنچنے میں ہمیں نظام ہائے حکومت کی تاریخ پہ بھی نظر دوڑانی پڑے گی اور ان کا موازنہ بھی کرنا پڑے گا۔ علم سیاسیات پہ حالات و واقعات کے مطابق تحریریں لکھی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جاتی رہیں گی۔ اسلام کے عطا کردہ اصول و قوانین کو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مختلف انداز میں بیان کیا جاتا رہا ہے۔ یہ وہی قوانین ہیں جو قرآن و حدیث میں بیان ہوچکے ہیں۔ ان کو تحریر کرنے یا بیان کرنے کا انداز مختلف ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ دنیا کے ہر میڈیکل کالج میں ایک جیسی کتابیں نہیں ہیں۔ نہ ہی انجینرنگ کی کتابیں ایک جیسی ہیں۔ ایسے ہی تاریخ کو بیان کرنے کا ہر مورخ کا انداز مختلف ہوتا ہے، جبکہ واقعات تو وہی ہوتے ہیں جو وقوع پزیر ہوچکے ہیں۔ قرآن مجید کی کم و بیش دولاکھ تفاسیر ہیں، جن میں بیش بہا خزانے موجود ہیں۔ جبکہ قرآن مجید اور ارشادات نبوی ﷺ جو قرآن مجید کو سمجھنے کا سبب ہیں، وہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حالات و واقعات کے مطابق ہر دور میں قرآن مجید کے مفاہیم مفسرین اکرام نے بیان کئے۔ احادیث کی بھی بہت سی کتب ہیں، جن میں احادیث کو مختلف انداز میں جمع کیا گیا ہے۔ ایسے ہی فقہ کی لاتعداد کتب موجود ہیں اور بہت سی کتب کی شرح بھی ہوچکی ہے اور بہت سی کتب کی شرح کی شرح بھی کی گئی۔ دنیاوی علوم میں ریاضی، جغرافیہ، علم فلکیات، طب وغیرہ پہ بہت سی کتب لکھی گئیں اور بہت سی کتب لکھی جارہی ہیں۔ ہر ایک کی تحقیق اور انداز بیان ہے۔

تحاریر کا مقصد یہی ہے کہ اسلامی نظام حکومت سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات واضح کی جاسکیں۔

error: Content is protected !!