علم غیب اور علم لدنی

لوگوں میں یہ بحث چلتی رہتی ہے اور میرے خیال میں یہ فضول بحث ہے کہ علم غیب کیا ہے اور آدم علیہ السلام کو کائنات کی ہر چیز کے بارے میں بتا دیا گیا توو ہ بھی عالم الغیب ہوگئے۔یہ درست نہیں ہے۔علم غیب وہ ہوتاہے جو بغیر کسی سبب کے جانا جائے اور جو جانتا ہو وہ عالم الغیب ہے۔ یہ شان صرف اللہ کی ہے جو بغیر کسی کے بتائے جانتاہے‘ بغیرکسی کے دکھائے دیکھتاہے‘ کسی معاملے میں کسی کا محتاج نہیں ہے‘ ہر چیز کو ہر وقت ہر آن جانتاہے‘ یہ صرف اللہ کی خصوصیت ہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو‘ اللہ کے مقرب بندوں کو علوم عطا کیے جاتے ہیں۔ا ب جس کی خبر دی جائے‘ بتا یا جائے وہ غیب نہیں رہتا۔ بتانے والے نے بتا دیاتو غیب ختم ہوگیا۔ ہاں‘ آپ کہہ دیں کہ اس بندے کو اللہ نے غیب پر مطلع کردیا یا غیب کی خبر دے دی تو وہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شان ہے کہ بے شمار ایسے غیب ہیں جونبیوں اور رسولوں کو بتائے جاتے ہیں۔

لوگو! اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ تم سب کو غیب پر اطلاع دے لیکن جسے چاہتاہے اس کے لئے چن لیتاہے‘یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو‘ اپنے رسولوں کو‘ اپنے نبیوں کو‘ اوریہ بھی طے شدہ بات ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو جتنے ضروری علوم دیے گئے ان سب سے زیادہ علوم آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کو عطا فرمائے۔ ہر نبی کو اس کی اپنی ضرورت اور اس کی امت کی ضرورت کے مطابق احکام ِشریعت اور دنیا و آخرت کے علوم عطا فرما ئے گئے۔ نبی کریمﷺ چونکہ سارے نبیوں کے بھی نبی ہیں۔ساری امتوں کے بھی‘ ان کے نبیوں کے واسطے سے نبی ہیں‘ امام الانبیاء ہیں اور بعثت سے ہمیشہ کے لئے آپ کی نبوت جاری وساری ہے توان سارے زمانوں میں جو ہوناچاہیے تھا‘جو درست ہے‘ جو غلط ہے وہ سارے علوم نبی کریمﷺ کو عطا فرمائے گئے لیکن وہ علم غیب نہیں ہے وہ اطلاع علی الغیب ہے۔ غیب پر مطلع فرما دیا گیا۔یہ بحث فضول ہے کہ علم غیب کسے ہوتاہے؟ علم غیب خاصہ ہے اللہ تعالیٰ کا۔ وہ بغیر کسی کے بتائے‘ بغیر کسی ذریعے‘ بغیر کسی واسطے کے جانتاہے اورجو غیب نبی جانتے ہیں وہ اطلاع علی الغیب ہوتی ہے کہ اللہ انہیں غیب پر مطلع فرما دیتاہے۔ انبیاء علیہم السلام کو فرما دیتا ہے‘ اولیاء اللہ کو فرمادیتاہے‘ اس کی اپنی مرضی کہ جسے چاہے بتاد ے۔  

حضرت آدم علیہ السلام کو تما م چیزوں کا علم دے دیا۔اولاد آدم جتنی چیزیں ایجادکرتی جارہی ہے‘جتنی تحقیقات کرتی جارہی ہے‘ آج انسان نے سب سے چھوٹا ایٹم کا ذرہ چیر کر دریافت کر لیا کہ اس کے اندر بھی مثبت ومنفی نظام جاری ہے۔ اس کے اندر ایک کارخانہ ہے جس میں مثبت بھی ہے اور منفی بھی ہے۔ سب سے چھوٹے ذرے کوچیر اجائے توایک دھماکہ ہوتاہے جسے ایٹمی دھماکہ کہتے ہیں۔ ہر ایٹم کا سینہ چیرنے سے یہ دھماکہ ہوجاتاہے۔ بنی آدم نے جو آج آکر دریافت کیا‘ یہ آدم علیہ السلام کو وہاں بتا دیا گیا۔جوجو علوم انسان نے دریافت کیے ہیں یا جو آئندہ کرے گا وہ سارے موروثی علم ہیں جو آدم علیہ السلام کو عطا فرمادیے گئے۔ اور پھر فرشتوں سے کہا یہ کائنات کی چیزیں تمہارے سامنے ہیں  ذرا ان کے بارے مجھے بتاؤ ان چیزوں کے نام کیا ہیں۔ یہ کس کام آتی ہیں‘ ان میں کون سی چیز نفع بخش ہے‘ کون سی نقصان دہ ہے‘ اگر تم خبر رکھتے ہوکہنے لگے اے اللہ ہمیں کوئی خبر نہیں  ہمیں صرف وہ خبر ہے جو آپ نے ہمیں بتایا۔ آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ بارش برسانی ہے تو یہ ہم نہیں جانتے کہ بارش سے ہو تا کیا ہے۔ جس کو یہ بتایا کہ فصل اگانی ہے اسے یہ خبر نہیں کہ اس سے آگے کیا ہوتاہے‘ اس میں نفع کیا ہے‘ نقصان کیاہے۔

اب ان چیزوں سے ہمارا تعلق نہ واسطہ‘ ان کے بارے میں ہم تو کچھ نہیں جانتے تیری ذات جانتی ہے اور تیری ذات دانا تر ہے۔ تو حکیم ہے‘ تو ہی جانتاہے۔فرمایا اے آدم علیہ السلام اب تُو ان چیزوں کی خصوصیات اور ان کے نام بتا۔ علم اللہ کی طرف سے آتاہے اس کے لئے کوئی وقت درکار نہیں ہوتا‘کوئی عرصہ نہیں لگتا۔ اس نے دے دیا اور لینے والے کو وصول ہوتا گیا‘ اس کو علم لدنی کہتے ہیں۔ اس طرح فرشتوں پر علم کے حساب سے حضرت آدم علیہ السلام کی برتری ظاہر کی۔ صوفیاء اپنا خلیفہ یا نائب اس کو بناتے ہیں جس پر انہیں اعتماد ہو کہ اس فن میں اس کے پاس صرف عمل نہیں علم بھی ہے۔ مجاہدہ اور عمل تو ضروری بات ہے لیکن مجاہدہ تو سارے لوگ کرتے ہیں۔ اپنی طرف سے تو سارے لوگ کوشش کرتے ہیں لیکن اسے جاننا‘ اس کی باریکیوں کو سمجھنا فضیلت کا سبب ہے اور خلافت کے لئے صرف عمل ہی نہیں‘ علم بھی ضروری ہے اوریہ علم کتابوں سے نہیں ملتا۔حضرت آدم علیہ السلام نے کونسی کتاب پڑھی تھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کتنے لوگ تھے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن جس مسئلے پر صحابہ کرام کی رائے آجائے تو سارے لکھنے پڑھنے والے خاموش ہو جاتے ہیں‘ اس لئے کہ انہوں نے محمدرسول اللہ ﷺ سے سن کر جواب دیا‘ جو جاننا ہے وہ محض لکھنے پڑھنے کا نام نہیں ہے۔ وہ جانتے تھے‘ اللہ چاہے تو کسی کو اپنی طرف سے علم کا خزانہ عطا کردے۔

حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں قران کریم میں فرمایا گیا کہ ”ہم نے اسے اپنی طرف سے علم عطا کردیا۔“(سورۃ الکھف:65) اسے علم لدنی کہتے ہیں۔ اصطلاح میں جس نے کسی مدرسے میں یا کسی استاد سے تو نہ پڑھا ہو لیکن اللہ اسے علوم کے خزانے عطا فرما دے تو اسے علم لدنی عطا ہوگیا۔ ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے اسماء گرامی اولیا اللہ میں ملتے ہیں اور ایسے حضرات بھی ملتے ہیں جوخود تو پڑھے لکھے نہیں تھے یا معمولی پڑھے لکھے تھے مگر بڑے بڑے علماء ان کی خدمت میں حاضر ہو کر مسائل کا حل دریافت کرتے تھے‘ اس لئے کہ اللہ نے انہیں علوم عطا کردیے۔ بات یہاں بھی یہی تھی حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اسماء سکھائے اور فرشتوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے اعتراف کیاکہ ہمیں تو کوئی علم نہیں۔ہاں وہ باتیں جانتے ہیں جو آپ نے بتائیں اور آپ کی یہ شان ہے‘ آپ علیم بھی ہیں‘اور حکیم بھی ہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کو ارشاد ہوا ”اے آدم ان چیزوں کے بارے‘ ان کے اسماء کے بارے‘ان کی خصوصیات کے بارے میں آپ بیان کریں۔“ جتنا اللہ نے چاہا اتنا انہوں نے بیان کردیا۔ فرمایا:میں نے تم سے نہیں کہا تھاکہ ز مینوں اور آسمانوں کے سارے غیب میں جانتاہوں جس بات کا اظہارتم نہیں کرتے‘ تمہارے دلوں میں کیاہے وہ بھی میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو‘ میں وہ بھی بہت اچھی طرح سمجھتاہوں۔اللہ کریم ہم سب کی حفاظت فرمائے۔(آمین)

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ

مترجم و مفسر قرآن
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
بانی تنظیم الاخوان پاکستان

error: Content is protected !!