معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم

cityscape under blue sky

 پندرہواں پارہ شروع ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا ء میں نبی کریم ﷺ کے سفرِ معراج کا ذکر خیر ہے۔ لہٰذا یہ سورۃُ الاَسراء بھی کہلاتی ہے۔سورۃ کے آغاز میں فرمایا:  ”پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات میں مسجد ِحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی۔وہ مسجد اقصیٰ جس کے ارد گرد اللہ نے بہت برکت رکھی ہے تاکہ انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔بے شک اللہ دیکھنے، سننے والے ہیں“۔ (بنی اسرآءِ یل:1) واقعہء معراج ہجرت سے تین سال قبل یعنی نبوت کے دسویں سال پیش آیا۔نبی کریم ﷺ رات کو آرام فرما رہے تھے کہ جبرائیل اٰمین تشریف لائے، جنت کی سواری بُرّ اق بھی ساتھ لائے۔ انہوں نے آپ  ﷺ کو جگایا۔آپﷺ اُن کے ہمراہ بُرّاق پر جلوہ افروز ہو کر بیت المقدس تشریف لے گئے۔اس سفر کو اَسراء اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ راتوں رات کیاجانے والا سفر تھا اور رات کے سفر کو اسراء کہتے ہیں۔بعض لوگوں کی رائے میں معراج ایک روحانی سفر تھا اور روح اقدسﷺ نے تمام حالات کو مشاہدہ کیا۔ اس زمانے میں شب بھر میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس پہنچنا اور واپس پلٹ آنا۔انوکھی بات تھی بلکہ ناممکنا ت میں سے تھا کہ یہ مہینوں کا سفر تھا۔ لیکن یہ اللہ کریم کی قدرت کاملہ کا اظہار تھا۔جو لوگ اس کو روحانی سفر کہتے ہیں انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ اللہ کریم نے اس آیہ ء مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے لئے  ”بعبدہ“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہے ”بندہ“  اور بندہ نہ تو صرف روح کو کہتے ہیں، نہ ہی صرف بدن کو بلکہ روح مع الجسد کو  ”بندہ“ کہتے ہیں۔

 فرمایا جن بلندیوں تک چاہا۔ حضور ﷺ کو لے گیانہ حضور ﷺ کو کوئی دھوکہ لگا نہ غلط فہمی ہوئی۔ہر چیز جیسے تھی آپ نے ویسے دیکھی، ویسے سمجھی  انتہائی قرب جو مخلوق کو خالق سے نصیب ہو سکتا ہے وہ آپ ﷺ کو نصیب ہوا۔ اللہ کا ذاتی کلام قلب اطہر پر وارد ہوا۔ آپﷺ نے فرشتے بھی دیکھے، آسمان بھی دیکھے، لوح محفوظ بھی دیکھے، جنت و دوزخ کا بھی ملاحظہ فرمایا۔ برزخ اور برزخ کے واقعات بھی دیکھے،جلالت باری تعالیٰ کوبھی دیکھی اور معراج کے بعد آ کر بیان فرمائے۔ جہاں تک حضور ﷺ پہنچے وہاں تک مخلوق میں سے دوسرا کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔ جتنا ممکن تھا ذات باری کے قریب ہونا، اتنا حضور ﷺقریب گئے۔ کوئی فاصلہ رہ نہ گیااور یہ سب کچھ حضور ﷺ کے قلب اطہر نے قبول کیا۔جو کچھ حضور ﷺ نے ظاہری آنکھ سے دیکھا۔ اس پر بھی تم اعتراض کرتے ہو؟ جس کا آپ ﷺ نے مشاہدہ فرمایا۔  اَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی     )النجم:12) اس پر تمہیں اعتراض ہے۔ جھگڑا کرتے ہو۔ دیکھی ہوئی چیزوں میں بھی، چشم دید چیز ہے۔اللہ گواہ ہے کہ حضور ﷺ نے جو دیکھا  حق دیکھا۔جو سمجھا، حق سمجھا۔تم کہتے ہو۔ نہیں، آپ ایسے ہی کہہ رہے ہیں،ایسا نہیں ہو سکتا۔بھئی تم جاہل ہو۔ دیکھی ہوئی چیزوں پر اعتراض کرتے ہو۔

اُس زمانے میں کفار اعتراض کرتے تھے۔ آج ہم کس دور میں آ گئے ہیں کہ جو بندہ مسلمان ہونے کا دعوے دار ہے۔ اسے بھی معراج پر اعتراض ہے؟ ہمارے مسلمان دانشور اور قومی راہنما قسم کے لوگ بھی کہتے ہیں جی یہ ایک خواب تھا جو حضور ﷺ نے دیکھا۔جسم اطہر تو وہیں تھا۔ جسمانی طور پر حضور ﷺ تشریف نہیں لے گئے۔ خواب تو ہر بندہ دیکھ سکتا ہے۔ اگر حضور ﷺ اہل مکہ کو کہتے میں نے یہ خواب دیکھا ہے تو انہیں کیا اعتراض ہو سکتاتھا؟ اعتراض تو اس بات پر تھا کہ آپ جسم اطہرﷺ سمیت کیسے بیت المقدس گئے؟ ہمیں مہینے لگتے ہیں۔بڑا اچھا تیز رفتار،صحت مند، اونٹ ہو۔ بھگا بھگا کرلے جائیں تو مہینوں کے حساب کاسفر ہے اور آپ بیت المقدس گئے بھی اور واپس بھی آگئے اور پھر وہی رات کا لمحہ،کوئی وقت نہیں لگا۔یہ تو مشرکین کو بھی علم تھا کہ حضور ﷺ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ میں جسم اطہرﷺ سمیت بیت المقدس گیا  وجود اطہرﷺ سمیت آسمانوں پر گیا۔عرش اولیٰ پر گیا۔ برزخ دیکھا، جنت کو دیکھا،دوزخ کا ملاحظہ فرمایا۔لوگ کہتے تھے یہ آسمانوں کی بات توہماری سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن ہم زمینی فاصلے تو سمجھ سکتے ہیں پھر انہوں نے سوال بھی کیا کہ اگر آپ ﷺبیت المقدس گئے ہیں تو ہم بھی بارہا وہاں گئے ہیں۔ ہم نے وہ مسجد دیکھی ہے۔ اس کی کھڑکیاں،اس کے دروازے،اس کی دیواریں،اس کے ستون، ہم نے گنے ہوئے ہیں۔ آپ بتائیں اس کی کھڑکیاں کتنی تھیں؟ آپ یہ ارشاد فرمائیے اس میں دروازے کتنے تھے؟ کس سمت تھے؟ستون کتنے ہیں؟ دیواریں کتنی ہیں؟ چھت کس قسم کی ہے؟ فرش کیسا ہے؟ 

 حضور ﷺ معراج پر تشریف لے گئے۔ ایک پتھر جو انبیاء سے پہلے بھی منسوب تھا اور اس پتھر پر بعض انبیاء کو ذبح کیا گیا، شہید کیا گیا۔ خون کاداغ اب تک باقی ہے۔اس پتھر میں ایک سوراخ ہے۔ جس کے ساتھ حضورﷺ نے بُرّاق باندھا پھر مسجد میں تشریف لے گئے۔تمام انبیاء روح مع الجسد وہاں تشریف لائے۔یہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے کہ صرف انبیاء  ؑکی روحیں آ گئیں۔نہیں،سارے انبیاء  ؑوجود عالی اورروح سمیت جس طرح دنیا میں زندہ انسان ہوتا ہے، اس طرح وہاں تشریف لائے۔آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور آسمانوں کو روانہ ہو گئے۔ حضورﷺ کھڑکیاں، دروازے اور روشن دان تو نہیں گنتے رہے۔ لیکن مشرکین نے کہاکہ اگر آپ وہاں گئے ہیں تو آپ کوعلم ہوگا تو حضور ﷺ کا ارشاد حدیث شریف میں ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے کردی۔ کفار پوچھتے جاتے،میں بیت المقدس دیکھ دیکھ کر بتا دیتا۔کھڑکیاں کتنی ہیں؟ میں گن کر بتا دیتا۔اتنی ہیں،ستون کتنے ہیں؟ میں بتا دیتا۔ اتنے ہیں، پھر انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر آپ بیت المقدس گئے ہیں تو ہمارا ایک تجارتی قافلہ جو بیت المقدس گیا ہواتھا۔وہ راستے میں کہاں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا۔ میں نے دیکھا ہے۔فلاں جگہ پر تھے۔ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا۔ اس کا یہ رنگ تھا۔ اسے تلاش کر رہے تھے۔پھر وہ انہیں مل بھی گیا اورتین یا چار دنوں بعد فلاں وقت وہ قافلہ یہاں پہنچ جائے گا۔ کفار یہ بھی انتظار کرتے رہے اور عین اس وقت تک قافلہ پہنچ بھی گیا۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ واقعی ہم اس منزل پر تھے اور ہماراایک اونٹ گم ہوگیا تھا۔ ہم سارا قافلہ روک کر اونٹ تلاش کررہے تھے۔ یہ سارے دلائل سننے کے بعد پھر انہوں نے کہہ دیاکہ ہم نہیں مانتے ہیں۔ یہ کوئی جادو ہے۔

 حضور ﷺ نے جبرائیل امین کو ان کے اصل وجود میں دوسری بار دیکھا  وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی ) النجم:(13 پہلی مرتبہ افق پر دیکھا تھا۔جب حضرت جبرائیل امین نے زمین و آسمان کو بھر دیا تھا۔ دوبارہ پھراس اصلی وجود میں حضور ﷺ کی ملاقات ہوئی۔ کہاں ہوئی؟  عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی)النجم: (14اس بیری کے درخت کے پاس جو آسمانوں اور عرش اولیٰ کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ جو انتہا پر ہے۔ جہاں آسمانوں کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہاں ایک بیری ہے۔جہاں آسمانوں کی حد ختم ہوجاتی ہے اور آگے عرش الہٰی کے معاملات شروع ہوجاتے ہیں۔اس بیری کاایک ایک پتہ اتنا بڑا ہے کہ ہر پتے پر کسی نہ کسی فرشتے کا دفتر لگا ہوا ہے۔ وہ اس لئے بھی اہم ہے کہ احکام الہٰی عالم بالا سے، اس بیری پر، ان دفاتر میں نازل ہوتے ہیں اوروہاں سے فرشتوں کو تقسیم ہوتے ہیں۔ نظام عالم اس طرح چلایاجاتاہے سارے اعمال جو زمین سے جاتے ہیں۔اسی سدرۃ المنتہیٰ پر جو بیری ہے۔ وہاں پہنچتے ہیں اورفرشتے وہاں سے وصول کرکے بارگاہ الہٰی میں پیش کرتے ہیں۔ فرمایا جب حضور ﷺ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو وہ بھی اتنی وسیع جگہ ہے کہ زمین و آسمان کی خلاء سے بڑی ہے۔وہاں بھی جبرائیل امین کو ان کی اصلی حالت میں حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمایا۔جب حضور ﷺ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو تجلیات ذاتی مترشح ہوئیں۔یہ آپﷺ کا مقام  ”عبدیت“  تھاکہ وہاں حضور ﷺ کا استقبال فرمایا گیا۔ اللہ تو ہر جگہ، ہر وقت موجود ہے۔ لیکن قرب الہٰی کے مدارج ہیں۔ جب کوئی بہت پیارا مہمان آتا ہے تو صاحب خانہ بادشاہ بھی ہو تو کم از کم دروازے پر آکر اس کا استقبال کرتا ہے تو فرمایا جب آپ ﷺعالم افلاک کی انتہا پر پہنچے   اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی)النجم(16: تو تجلیات ذاتِ باری نے، جمال باری نے سدرۃالمنتہیٰ کو ڈھانپ لیا۔گویا حضور ﷺ کا اللہ کریم استقبال فرما رہے ہیں۔آپﷺ تشریف لے آئے۔ مہمان کو میزبان خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اس کی کیفیات،اللہ جانے، اللہ کا رسولﷺ جانے۔ ہماری سمجھ سے باہر، قوت گویائی سے بالاتر، الفاظ سے بہت بڑ ی ہیں، نہ کوئی سمجھ سکتا ہے، نہ کوئی جان سکتا ہے۔ جس نے دیکھا، وہ جانے۔ جس نے دکھایا، وہ جانے۔ اپنے پروردگار کے حضورﷺ نے بڑے عجائبات دیکھے  لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی) النجم (18: آپ ﷺ نے جو ارشاد فرما دیے۔ وہ تو چند باتیں تھیں۔جو ہماری سمجھ میں بھی آ گئیں۔ نمازیں فرض ہو گئیں، ہماری سمجھ میں آ گئیں۔ اب نمازیں کیسے فرض ہوئیں؟کلام میں لذت ِکلام کیا تھی؟  حضورﷺ جب اللہ سے کلام فرما رہے تھے نظر کیا آرہا تھا؟ تجلیات نظر آ رہی تھیں، یا ذات باری نظر آ رہی تھی؟ کلام کیسے ہورہا تھا؟  فرمایایہ تمہارے سمجھنے کی باتیں نہیں ہیں۔ تمہارے سمجھنے کی یہ بات ہے کہ وہاں پانچ نمازوں کا تحفہ ملا۔ اللہ نے فرمایا آپ ﷺکی امت پر پچاس نمازیں رات دن میں فرض ہیں۔ قبول کر کے آپ ﷺ نے واپسی کا ارادہ کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے عرض کی یار سول اللہ ﷺ واپس جائیے،اللہ کریم سے عرض کیجئے کہ کچھ کم کر دیں۔ میری امت پر دو نمازیں فرض تھیں، وہ پڑھنی انہیں مشکل ہو گئی تھیں۔لوگ چھوڑ گئے تھے۔ آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔ دس کم ہو گئیں،چالیس رہ گئیں۔واپسی پرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کی۔ حضورﷺ واپس جائیے پھر گئے، تیس رہ گئیں۔پھر گئے،بیس رہ گئیں۔ پھر گئے، دس رہ گئیں۔ پھر گئے، پانچ رہ گئیں۔ جب پانچ رہ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنی امت سے کہوروزانہ پانچ نمازیں پڑھے،میں انہیں پچاس کا درجہ دوں گا۔ جو نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ ثواب ان کاملے گا۔ جو رعایت کرکے پانچ کردی گئی ہیں۔یعنی پڑھیں پانچ، درجات پچاس کے دوں گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کی یا رسول ا للہ ﷺواپس جائیے پانچ نمازیں زیادہ ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا اب مجھے شرم آتی ہے۔ مجھے فرمایا گیا ہے کہ میں پانچ نمازوں کا اجر پچاس کے برابردوں گا۔اب مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے۔ میں واپس نہیں جاتا۔  

معراج میں کیا نبی کریم ﷺ کو دیدارِ باری نصیب ہوا؟ اس میں علماء کی دو رائے ہیں۔ایک طبقہء علماء اس با ت کا قائل ہے کہ دنیوی زندگی میں اللہ کریم کی زیارت ممکن نہیں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا۔اے اللہ مجھے اپنا جمال دکھائیے۔ میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ارشاد ہوا   قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ (الاعراف 143) کہ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ دنیا کی مادی آنکھوں میں وہ طاقت نہیں ہے کہ جمال باری کو دیکھ سکیں۔ البتہ آخرت میں، میدان حشر میں، حساب کتاب کے وقت بھی، اللہ کے مقرب بندوں کو اللہ کا دیدار نصیب ہو گا۔ ایک حدیث شریف میں یہ روایت ملتی ہے کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کیا ہم اللہ کو سامنے دیکھیں گے؟ حضور ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے فرمایا،  ”جس طرح چاند کو دیکھتے ہو اسی طرح جنت میں ہر جنتی کو اپنی حیثیت اور درجے کے مطابق دیدارِ باری نصیب ہو گا“  تو علماء کا یہ طبقہ اس رائے کا قائل ہے کہ اس دنیا میں دیدارِ باری نا ممکن ہے۔

دوسرا طبقہ ء علماء جو دیدارِ باری ہونے کا قائل ہے،وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اُس وقت اِس دارِ دنیا میں،اس زمین پر نہیں تھے۔ آپ ﷺ بالائے آسمان اور قرب الہٰی کی اُن منا زل میں تشریف لے گئے جو عرشِ عظیم سے بھی بالاتر ہیں۔وہ عالمِ بالا ہے اوروہاں دیدارِ باری ہونا محال نہیں ہے۔ لہٰذا وہاں دنیا کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ معراج کے بارے بات کا آغاز  ”سبحٰن الذی“(بنی اسرآءِ یل:1) سے کیا گیا کہ اللہ کریم پاک ہے جو چاہے کر سکتا ہے، اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے اس نے اپنے حبیب ﷺ کو سفر کرایا، انہیں بالائے عرش لے گیا وہ قادر ہے اس نے آخرت کا مشاہدہ کرایا،یہ اس کی قدرت ہے جو چاہے کر سکتا ہے فرمایا، ”اور یہ بھی یاد رکھو کہ تمہاری ہر حرکت،ہر سکون،ہرنظریے،ہر عقیدے،ہرخیال،ہر ارادے کو اللہ کریم دیکھ رہے ہیں اور ہر بات کو اللہ کریم سن رہے ہیں“۔

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ

مترجم و مفسر قرآن
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
بانی تنظیم الاخوان پاکستان

error: Content is protected !!