معرفت باری تعالٰی

brown beaded necklace on book page

حدیث قدسی ہے کنت کنزاً مخفیاً فاحببتُ ان اعرفُ فخلقت الخلقکہ میں ایک ایسی شان رکھتا تھا جیسے کوئی پوشیدہ خزانہ ہو‘ میری مخلوق میں سے کسی کو جرأ ت نہیں تھی کہ وہ میرے جمال جہاں آرا کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا‘ میری مخلوق میرے حکم کی تابع تھی لیکن میری ذات‘میری عظمت اور میری شان سے تعلق استوار کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ فاحببت ان اعرف۔ پھر میری ذات کو یہ بات پسند آئی کہ کوئی تو میرا جاننے والا بھی ہونا چاہئے۔ اس ساری مخلوق میں کوئی تو ایسا ہو جس کا میرے ساتھ تعلق ہو‘ محبت کا الفت کا‘ جو میرے لئے تڑپے‘ جو میرے لئے بے قرار ہو‘ جو میرے جمال کا منتظر ہو‘ جو میرے قرب کا متقاضی ہو‘ جو مجھے دیکھنا چاہے‘ جو مجھ سے بات کرنا چاہئے‘ جو میرے ہجر میں تڑپے‘ جو میرے وصال کے لئے بے قرار ہو‘ کوئی تو ایسا بھی ہونا چاہئے۔ اُس کے لئے میں نے اس مخلوق کو‘ نوع انسانی کو بنا دیا۔ ساری مخلوق میں بنی نوع انسان میں نبوت عطا فرمائی اور نبوت ہی وہ عظیم دروازہ ہے جس سے معرفت الٰہی کے سوتے پھوٹتے ہیں اور بندے کو یہ جرأ ت نصیب ہوتی ہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے طفیل وہ اللہ کا طالب بن جاتا ہے‘ وہ اللہ کا قرب چاہتا ہے‘ وہ اللہ کا وصال چاہتا ہے‘ وہ اُس کی دوری سے گھبراتا ہے۔ ایک ایسی بہترین مخلوق پیدا فرمائی جس کی خدمت میں ساری کائنات کو لگا دیا۔ جتنے ستارے یا سیارے آسمان کی وسعتوں میں تیرتے پھرتے ہیں اُن سب کا کچھ نہ کچھ اثر زمین پہ مرتب ہوتا ہے۔ کسی سے کھیتیاں اُگتی ہیں‘ کسی سے بارشیں برستی ہے‘ کسی کے اثرات سے پھل پکتے ہیں‘ کسی کے اثر سے اُن میں مٹھاس آتی ہے‘ وہ سارے روئے زمین پر مختلف چیزوں کی تخلیق کا سبب بنتے ہیں۔ فرمایا:

 جو کچھ میں نے زمین میں تخلیق فرمایا وہ سب تمہاری خدمت کے لئے ہے اور جنوں اور انسانوں کو میں نے اپنی اطاعت کے لئے‘ اپنے قرب کے لئے‘ اپنی محبت کے لئے پیدا فرمایا۔

ورنہ ساری مخلوق تو اُس کی اطاعت میں ہمہ وقت کمربستہ ہے لیکن وہ اطاعت حکم کی ہے اور انسان ایسی مخلوق ہے جو حاکم کا قرب چاہتاہے‘ اُس کی اطاعت اس لئے کرتا ہے کہ اُسے اُس ذات کا قرب نصیب ہو جائے‘ وصال نصیب ہو‘ اُسے دیکھے‘ اُس سے بات کرے‘ اُس سے اپنی طلب‘اپنے دکھ‘ اپنی تڑپ‘ اپنی محبت کا اظہار کرے۔ وہ ہستی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش کر دیا۔ کیسا عجیب فرش ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے اُسے وہ سمو لیتا ہے۔ ہم بستیوں کی بستیاں جلا دیتے ہیں‘ زمین اُسے ڈھانپ لیتی ہے۔ ہم بے شمار غلاظتیں پھیلاتے ہیں‘ زمین سب کو سمو لیتی ہے اور اس کے بدلے میں ہمیں بہترین اور خوبصورت رزق عطا کرتی ہے۔ آج تک دنیا سے گزرنے والے لوگوں کو دیکھو‘ اگر زمین اپنا سینہ فراخ کر کے نہ سماتی تو آج کسی کے لئے سانس تک لینا ممکن بھی نہ ہوتا۔ سب کچھ سما لیتی ہے۔ اتنی نرم ہے کہ آپ اُسے سوئی سے کھودنا شروع کر دیں تو کھودتے چلے جائیں گے لیکن اتنی مضبوط ہے کہ سینکڑوں منزلہ عمارت اس کے سینے پہ کھڑی کر دو تو اٹھا کر کھڑی ہے۔ کوئی مر جائے تو اُسے قبول کر لیتی ہے‘ جو زندہ ہے اُسے رزق دیتی ہے اور کتنی مخلوق ہے کہ زمین کا سینہ پھاڑ پھاڑ کر طرح طرح کی نعمتیں حاصل کر رہی ہے۔ اپنے لئے رزق حاصل کر رہے ہیں اور کب سے کر رہے ہیں‘ کب سے یہ کھیتیاں اُگ رہی ہیں‘ کب سے یہ پھل پک رہے ہیں‘ کب سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور زمین دیے جا رہی ہے‘ دیے جا رہی ہے‘ لیکن کوئی چیز ختم ہونے میں نہیں آتی۔ کب سے شروع ہے اب تک گھاس اُگنا ختم ہو گئی ہوتی‘ فصلیں ہونا ختم ہو گئی ہوتیں‘ پھل اُگنا ختم ہو گئے ہوتے لیکن نہیں ہو رہے۔ اُس کے اپنے خزانے ہیں اور تمہارے لئے اُس نے اتنی نعمتوں اور اتنے خزانوں کا منہ کھول دیا ہے کہ تم کبھی بھی اُس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ صاحب خرد کو دعوت فکر ہے کہ کوئی بیٹھ کر سوچے تو سہی کہ اللہ کی کتنی نعمتیں ہیں جو بے تحاشا استعمال کی جا رہی ہیں اور کون منعم حقیقی ہے جو دیئے جا رہا ہے‘ پھر وہ بارشیں برساتا ہے پھر تمہارے لئے نئے نئے پھل‘ نئے نئے پودے‘ نئی نئی غذا‘ نئی نئی چیزیں پیدا فرماتا ہے۔ فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ سارا کام صرف وہ ایک ہستی انجام دے رہی ہے لیکن تم اُس کے شریک بنا لیتے ہو۔ اُس کے برابر لوگوں کو اور اُس کے برابر دوسروں کو سمجھنے لگتے ہو۔

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ

مترجم و مفسر قرآن
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
بانی تنظیم الاخوان پاکستان

error: Content is protected !!