حکمت و دانش

قرآن حکیم کے نزدیک دانش مندی یہ ہے کہ آدمی میں یہ فکر زندہ ہو جائے کہ وہ دنیا اور آخرت کو جانچ سکے اور کام کرتے وقت دیکھے کہ میں جو کام کر رہا ہوں‘ دنیوی اعتبار سے اس کا نفع و نقصان کیا ہے اور آخرت کے اعتبار سے کیا ہے۔ اگر کسی میں یہ شعور آ جائے تو قرآن حکیم کہتا ہے کہ اس کے پاس حکمت ہے۔ اللہ نے اسے دانائی دے دی‘ اسے دانش دے دی اور اللہ نے جسے دانش و حکمت دے دی‘ اسے بہت بڑی بھلائی دے دی‘ اسے بہت بڑی نعمت دے دی۔ جانوروں کی طرح زندگی نہ گزاری جائے۔ اس طرح زندگی نہ گزاری جائے کہ جدھر اسے ہوس لے جائے ادھر بھاگتا رہے بلکہ جو چیز‘ جو موقع‘ جو محل‘ جو کام‘ جو فیصلہ سامنے آئے‘ آخرت و دنیا‘ دونوں کے اعتبار سے اس پر نظر کرے۔ یہ کام کروں گا تو اس کا اثر آخرت میں کیا ہو گا اور یہ کام کروں گا تو اس کا دنیا میں نفع و نقصان کیا ہو گا؟ آخرت کے فائدوں کو دنیا کے فائدوں پر ترجیح دے تو یہ حکمت ہے‘ یہ دانائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جسے دانش دی گئی‘ دانائی دے دی گئی۔  اسے بہت بڑی نعمتیں مل گئیں۔ سب سے بڑی خیر مل گئی۔ اس لئے کہ نصیحت بھی وہی حاصل کرتے ہیں جن کو یہ خیر کثیر ملتی ہے‘ دانش ملتی ہے۔ جو عقل مند ہوتے ہیں‘ جو صاحب عقل و خرد ہوتے ہیں‘ نصیحت بھی انہیں پر اثر کرتی ہے۔ نصیحت سے سبق بھی وہی لوگ حاصل کرتے ہیں۔

مفسرین کرام نے حکمت کا معنی فہم دین کیا ہے۔ لغوی اعتبار سے حکمت کا معنٰی ہے کہ ایک شخص کسی کام کرنے کا صحیح طریقہ اور اس کا سبب سمجھتا ہو۔ یہ کام کیوں کرنا ہے‘ وجہ معلوم ہو اور کیسے کرنا ہے‘ وہ سلیقہ بھی آتا ہو۔ قرآن حکیم نے حکمت و دانش اس بات کو قرار دیا ہے کہ کوئی عظمت رسالت سے دلی طور پر آشنا ہو جائے‘ کسی کو یہ شعور نصیب ہو جائے کہ واقعی محمد رسول اللہﷺ وہ ہستی ہیں جن کا اتباع ضروری ہے اور یہ محض حکماً نہیں۔ اس کا دل بھی یہ فیصلہ کرے کہ صحیح بات یہی ہے۔ دین کیا ہے؟ دین نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعین کردہ اوامر و نواہی کا مجموعہ ہے۔ آپﷺ نے جو کرنے کا حکم دیا ہے‘ وہ کرنا دین ہے۔ کسی کام سے حضورﷺ نے روک دیا ہے تو رک جانا دین ہے۔ اللہ کریم کا احسان ہے کہ ہمیں یہ نعمت نصیب ہے کہ ہم آپﷺکو اللہ کابرحق سچا نبی‘ رسول‘ امام الانبیاء اور خاتم المرسلین مانتے ہیں۔ آپﷺ کی اطاعت کو فرض جانتے ہیں اور اپنی جان تک لگا دینا سعادت سمجھتے ہیں۔ حضورﷺ کے اتباع میں اور آپﷺ کی غلامی کے ساتھ ہمارا دماغ‘ ہمارے دل اور دل کی گہرائیوں کا تجزیہ بھی اس بات کو تسلیم کر لے کہ یہی زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ہمارے سامنے احکام شریعت آتے ہیں تو دل میں بے شمار اوہام آتے ہیں کہ ایسا کیوں کرنا ہے لیکن ہم کرتے بھی ہیں‘ اللہ توفیق دیتا ہے اور ہم اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ شریعت کا ایک حکم ہے‘ہم اسے مانتے بھی ہیں لیکن یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کرنا ہے؟ اس پر ہم خاموش ہو جاتے ہیں کہ یہ سوال کسی سے پوچھا تو وہ کہے گا کیا فضول بات کرتے ہو۔ اپنے آپ کو چپ کرا دیتے ہیں کہ چھوڑو اس کے پوچھنے کی ضرورت نہیں‘ بس ہم مسلمان ہیں اور ہماری مجبوری ہے کہ ہمیں ایسا ہی کرنا ہے۔ کچھ خوص نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس سے آگے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کریم ایسا فہم و شعور عطا کر دیتا ہے کہ ان کا دل‘ ان کا دماغ‘ ان کا شعور و لا شعور‘ سب مل کر یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ کرنا وہی چاہئے جو محمد رسول اللہﷺ نے کرنے کا حکم دیا ہے اور جس کو یہ فہم و ادراک نصیب ہو جائے تو سمجھیں اسے اللہ نے حکمت عطا کر دی۔ بظاہر یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن بہت بڑا فرق ہے۔ جب ہم نے حکم کی تعمیل کی‘

 اللہ قبول فرمائے تو مقصد پورا ہو گیا۔ تعمیل تو کر دی لیکن دل میں ایک بات رہ گئی کہ یہ ماننا تو  میری مجبوری تھی کہ مسلمان ہوں اور میں آپﷺ اور اللہ کی نافرمانی نہیں کر سکتا اس لئے میں نے مانا اور اطاعت کی لیکن ایسا کیوں کرنا چاہیے۔ 

انسان بعض دفعہ یہ سوچتا ہے کہ دن میں پانچ دفعہ نماز کیوں پڑھے‘ پانچ نمازوں کی کیا ضرورت ہے! وہ پڑھتا بھی ہے‘ عمل بھی کرتا ہے لیکن خوش نصیب وہ ہے جسے ان سب احکام کی وجہ بھی سمجھ میں آ جائے۔ جس کا فہم و ادراک بھی یہ کہے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا‘ جو اللہ نے فرمایا وہ صحیح ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ جو حضورﷺ نے فرمایا‘ وہ نہ صرف صحیح ہے بلکہ صرف وہی صحیح ہے اور ویسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ اس بات کی سمجھ بھی آ جائے‘ عقل بھی اسے تسلیم کر لے‘ دل بھی اسے مان جائے تو یہ حکمت ہے‘ یہ دانائی ہے۔ اللہ جس پہ احسان کرنا چاہتا ہے‘ جسے نوازنا چاہتا ہے‘ جس پہ اپنی بے انتہا مہربانیاں کرنا چاہتا ہے‘ اسے یہ حکمت و دانش عطا کر دیتا ہے اور جسے یہ حکمت نصیب ہو گئی اسے بے پناہ دولت مل گئی‘ بے پناہ بھلائی مل گئی‘ بے حساب خیر مل گئی۔ پھر اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی اور نصیحت بھی وہی حاصل کرتے ہیں جو صاحب خرد ہوتے ہیں جو دانش مند ہوتے ہیں‘ صاحب عقل ہوتے ہیں۔اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیِّات۔ دین کاسارا دارومدار اس بات پر ہے کہ دل کی گہرائی میں کیا نیت ہے۔ اعمال کی کوالٹی اس پر منحصر ہے کہ اس عمل میں کتنا خلوص ہے یا کتنی گہرائی ہے۔ اس ارادے‘ اس فیصلے پہ منحصر ہے جو ہمارے دل کی گہرائیوں میں ہے اور دل کو خرد آشنا کرنے کے لئے‘ اللہ کی رحمت سے لبریز کرنے کے لئے‘ حکمت و دانائی سے آشنا کرنے کے لئے اللہ کریم نے جگہ جگہ کتاب اللہ میں ذکر دوام اور ذکر خفی‘ ذکر قلبی کا حکم دیا ہے۔ جب تک قلب خود ذاکر نہیں ہو گا‘ عظمت باری سے آشنا نہیں ہو گا‘ برکات نبوت کی لذت کو نہیں چکھے گا‘ اسے وہ مزا نہیں آئے گا جو محض ہمارے کہنے سے عمل کر رہا ہو گا اور خود کو اس میں ابھی کچھ تحفظات ہوں گے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ سارے کا سارا تصوف اور اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ اتباع شریعت میں ہمارے وجود اور ہمارے دماغ کے ساتھ ہمارا دل بھی شامل ہو جائے اور اگر ایسا ہو جائے تو اللہ کریم کا بہت بڑا انعام ہے کہ پھر وجود کا ذرہ ذرہ اس میں شامل ہو جاتا ہے۔

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ

مترجم و مفسر قرآن
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
بانی تنظیم الاخوان پاکستان

error: Content is protected !!